رانچی،5؍جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)چارہ گھوٹالے سے جڑے اور دیوگھر خزانے سے 89لاکھ، 27 ہزار روپے کو غیر قانونی طورپر نکالنے کے مقدمے میں بہار کے سابق وزیر اعلی اور آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو، آر کے رانا، جگدیش شرما اور تین سابق آئی اے ایس افسران سمیت 16 قصورواروں کی سزا پر فیصلہ جمعہ کو پھر ٹل گیا۔ابھی جج ہفتہ کو دوپہر 2بجے فیصلہ سنائیں گے۔اس سے پہلے جمعہ کو سی بی آئی کورٹ میں سزا پر بحث مکمل ہو گئی۔لالو کے وکیل کورٹ روم میں موجود تھے۔جج لالو پرساد یادو سمیت تمام قصورواروں کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سزا سنائیں گے۔اس سے پہلے لالو پرساد یادو نے جج سے خراب صحت کا حوالہ دے کر کم سزا دینے کی فریاد کی۔ لالو کے وکیل کی جانب سے کہا گیا ہے کہ لالو پرساد یادو کو ذیابیطس اور سانس لینے سے متعلق پریشانی ہے۔ایسے میں انہیں اس حالت میں جیل میں رکھنا ٹھیک نہیں ہے۔لالو کے وکیل نے کہا کہ انہیں اس معاملے میں سزا دی گئی ہے، جبکہ جگن ناتھ مشرا جیسے لوگوں کو چھوڑ دیا گیا ہے۔وہ اس معاملے میں ایک سال کی سزا بھی کاٹ چکے ہیں۔بتا دیں کہ پچھلی سماعت میں عدالت نے اس فیصلے کو جمعہ تک کے لئے ملتوی کر دیا تھا۔ سیکورٹی وجوہات کے پیش نظر آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو کو ہوتوار واقع برسا منڈا جیل سے دوپہر پونے دو بجے سی بی آئی عدالت میں پیش کیا گیا۔لالو کے ساتھ اس کیس کے تمام 16 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں تمام کی سزا کی مدت پر ان کے وکلاء نے بحث کی۔حالانکہ لالو کی سزا کی مدت پر بحث شروع نہیں ہو سکی۔انہیں عدالت نے پونے تین بجے واپس عدالتی حراست میں جیل بھیجنے کی ہدایات دے دی۔اس صورت میں سزا کی مدت پر عدالت نے فیصلہ جمعہ تک کے لئے ملتوی کر دیا۔لالو کی عدالت میں پیشی کو لے کر برسا منڈا جیل سے خصوصی عدالت تک سیکورٹی کے خاص انتظامات کئے گئے تھے۔بعد میں لالو خصوصی جج شیوپال سنگھ کی عدالت سے نکل کر چارہ گھوٹالے کے دو دیگر معاملات میں پیشی کے لئے گئے اور پھر واپس برسا منڈا جیل چلے گئے۔عدالت نے اس معاملے میں 22 ملزمان میں سے 16کو مجرم قرار دینے کے بعد انہیں حراست میں لے کر برسامنڈا جیل بھیجنے کی ہدایت کی گئی۔